14 فروری 2026 - 04:00
ایڈورڈ سعید کے اوریئنٹلزم سے ایپسٹین فائلز تک: مغربی اخلاقی بیانیے کا ڈھانچہ کیسے منہدم ہؤا؟

مستشرقین نے مسلمانوں کو نامعقول، جذباتی اور پسماندہ معاشروں کے طور پر پیش کیا جو ان کے بقول مغربی کنٹرول کے محتاج کے تھے، جبکہ یورپ خود کو عقلی، اخلاقی اور مہذب ظاہر کرتا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یڈورڈ سعید کے اہم کام "اوریئنٹلزم" [1] میں بتائی گئی فکری بگاڑ سے لے کر جیفری ایپسٹن کے معاملے میں ظاہر ہونے والی اخلاقی گندگی تک، مغرب کی 'احتیاط سے گھڑی ہوئی' "فضیلت کی تصویر" بالآخر بے رنگ ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پروفیسر ایڈورڈ سعید [2] نے اس فکری ڈھانچے کو بے نقاب کیا جس کے ذریعے مغرب نے اسلام اور مسلم معاشروں کو مسخ کیا۔ ایک فلسطینی نژاد امریکی دانشور ایڈورڈ سعید نے دنیا کی ثقافت، شناخت اور طاقت کے ادراک کے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا۔ انھوں نے عیاں کیا کہ کس طرح علم کو ہی غلبے کا ہتھیار بنا دیا گیا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ "اوریئنٹ" [اور مشرق شناسی] (مشرقی ممالک بشمول مشرق وسطیٰ، ایشیا اور شمالی افریقہ) محققین کی دریافت کردہ معروضی حقیقت نہیں بلکہ ایک گھڑا ہؤا افسانہ تھا۔ ایک ایسا آئینہ جس میں یورپ نے اپنے خوف، تخیلات اور احساسِ برتری کو پیش کیا۔

مستشرقین نے مسلمانوں کو نامعقول، جذباتی اور پسماندہ معاشروں کے طور پر پیش کیا جو ان کے بقول مغربی کنٹرول کے محتاج کے تھے، جبکہ یورپ خود کو عقلی، اخلاقی اور مہذب ظاہر کرتا تھا۔

سعید کی تنقید المناک تھی جو کہہ رہے تھے: مستشرقین کی یہ تصویرکشیاں معصومانہ علمی غلطیاں نہیں تھیں بلکہ بلکہ یہ طاقت کے اوزار تھے۔ انہوں نے نوآبادیاتی تسلط، ثقافتی غرور اور سیاسی مداخلت کو جواز فراہم کیا۔ پوری تہذیبوں کو بھونڈے خاکوں (اور کارٹونوں) میں تبدیل کر کے، مغرب نے اپنے اخلاقی تضادات اور تاریخی تشدد کو چھپا لیا۔

سعید کا کہنا تھا کہ اوریئنٹلزم اسلام میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مغربی بالادستی قائم کرنے / رکھنے کا ذریعہ تھا۔

اب ہمارے دور میں آئیں، تو تاریخ نے ایک زیادہ کڑوا مذاق دکھایا؛ جہاں مسلمانوں کو مسلسل، اخلاقی طور پر مشتبہ اور ثقافتی طور پر پسماندہ اور رجعت پسند دکھایا جاتا رہا، وہیں مغرب کی اپنی اشرافیہ ـ جو اخلاقی بالادستی کا دعویدار تھا ـ اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ایپسٹین سے متعلق انکشافات نے ناموس کی پالش کردہ دیوار گرادی ہے۔ سامنے آنے والی چیز محض ایک مجرم کا اسکینڈل نہیں، بلکہ ایک جھوٹے بیانیوں میں لپٹے محفوظ کردہ نظام کی چیر پھاڑ تھی جہاں دولت، طاقت اور اثر و رسوخ مل کر شکاریوں کو بچاتے ہیں۔

نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ، اور ان کا جنسی استحصال، زیادتی، بلیک میلنگ اور منہ بند کروانا اور زبان پر تالے ڈالنا؛ یہ سب کسی دور دراز "غیر مہذب" خطے میں نہیں، بلکہ مغربی طاقت کے مرکز میں ہؤا۔

نجی جہاز، شاہانہ حویلیاں، خفیہ جزیرے اور قانونی ڈھکے چھپانے کے کام نے اس اخلاقی سڑن کی بنیاد ڈالی۔

پیسے نے رسائی خریدی؛ اثر و رسوخ نے خاموشی خریدی؛ طاقت نے استثنیٰ خرید لیا۔ اوریئنٹلزم کی گہرا تضاد اسی نکتے میں پوشیدہ ہے۔

مغرب نے مسلم معاشروں کو صدیوں تک جنسی طور پر منحرف اور اخلاقی طور پر ناقص دکھایا؛ لیکن آج ہم یہ منظم استحصال مغربی دولت و اثر کے اعلیٰ ترین حلقوں میں دیکھنے لگے ہیں؛ منظم، سوچا سمجھا اور ایسے اداروں کے ذریعے محفوظ، جنہیں انصاف کے لئے قائم کیا گیا تھا۔

سعید نے واضح کیا کہ مغرب نے کس طرح اپنے غلبے اور تسلط کے لئے اسلام کی مسخ شدہ تصویر گھڑ لی۔ ایپسٹین کے انکشافات سے کچھ اور زیادہ پریشان کن باتیں بھی سامنے آتی ہیں: دنیا کو اخلاقیات کا سبق دیتے ہوئے، مغربی اشرافیہ نے اپنی شائستہ سطح کے نیچے استحصال کی کھیتی باڑی کی۔

دنیا کو فضیلت کی تبلیغ کرتے ہوئے، مغرب کی اشرافیہ نے اپنی بنی سنوری سطح کے نیچے استحصال کی کی فصل کی آبیاری کی۔

اسلامی تعلیمات حیا، احتساب اور کمزوروں کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ پھر بھی مسلمانوں کو "تہذیب دشمن" بنا کر پیش کیا گیا۔

دریں اثنا، عالمی مالیات، سیاست اور میڈیا کے معمار ـ وہ لوگ جو دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دیتے تھے ـ ایسے جرائم میں ملوث تھے جنہوں نے انسانیت کا وقار چھین لیا۔

"اوریئنٹلزم کا مقصد بیانیے پر کنٹرول کرنا تھا۔ ایپسٹین کے انکشافات اس پر کنٹرول کھو دینے کے بارے میں ہیں۔" دونوں مل کر ایک حیران کن سچ کو عیاں کر دیتے ہیں: "مغرب کی بنی بنائی اخلاقی درجہ بندی، کبھی بھی فضیلت پر مبنی نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد طاقت تھی؛ اور جب طاقت بولتی ہے، تو راست بازی کا دعویٰ کرتی ہے۔ جب طاقت بے نقاب ہوتی ہے، تو اس کا ریاکاری ننگی ہو جاتی ہے۔

ایپسٹین فائلز نے معاشرے کی چوٹی پر چلنے والا ایک بھیانک نظام کا چہرہ بے نقاب کیا۔ فلائٹ لاگز، [3] سربمہر معاہدے اور نرمی کی درخواستوں سے عیاں ہؤا کہ انصاف کتنی شدت سے دولت کے آگے جھکا ہؤا ہے۔

ایپسٹین کوئی مجہول الاصل شخص نہیں تھا؛ وہ صدور، شہزادوں، ارب پتیوں اور مشہور شخصیات کے بیچ گھرا ہؤا تھا۔ نجی جہازوں ـ جنہیں سرد مہری سے "لولیتا ایکسپریس" کا نام دیا گیا تھا ـ نے کم عمر لڑکیوں کو شاہانہ جائیدادوں اور ایک نجی جزیرے پر منتقل کیا جو "رازداری" کے لئے بنایا گیا تھا۔ متاثرہ بچیوں نے بعد میں تصدیق کی کہ "انہیں طاقتور مردوں کے درمیان بے جان اشیاء [اور گیندوں] کی طرح پاس کیا جاتا تھا۔ کچھ بمشکل 18 سال سے کم عمر کی بچیاں (Teenagers) تھیں۔ برسوں تک، کچھ بھی نہیں ہؤا۔ شکایات غائب کی گئیں۔ تفتیش روک دی گئی۔ پراسیکیوٹرز نے حیرت انگیز نرمی دکھائی اور ایپسٹین کے ساتھ معاہدے کئے اوپر والوں کے کہنے پر۔ نظام عدل ـ جو پہلے ہی کمزوروں کے لئے ظالم اور بے رحم تھا ـ اچانک ہی امیر ترین افراد کے لئے بے حد نرم ہو گیا۔ یہ محض نااہلی نہیں تھی؛ بلکہ یہ ملی بھگت تھی۔

یہاں تک کہ وفاق کی قید میں مشتبہ طور پر ـ بظاہر غفلت کی حالت میں! ـ ایپسٹین کی مشکوک موت نے ایک ایسے آدمی کو خاموش کرا دیا جو نام بتا سکتا تھا اور اپنے شرکاء کو بے نقاب کر سکتا تھا۔ تاہم [جوڑ توڑ اور سازباز کے نتیجے میں انجام ہونے والی] کاٹ چھانٹ کے عمل سے سے بچی کھچی دستاویزات بھی، رتبے اور منصب و دولت کی رو سے محفوظ استحصال پر مبنی اشرافیہ ثقافت کی تصدیق کرتی ہیں۔

یہ مغرب کے اخلاقی تماشے کا حتمی زوال ہے۔

مغربی اداروں نے کئی عشروں سے مسلم معاشروں کو پسماندہ، جبر و ظلم سے بھرپور اور اخلاقی طور پر ناکام معاشروں کے طور پر پیش کیا، جبکہ خود کو انسانی حقوق اور وقار کے محافظ اور سرپرست کے طور پر متعارف کرایا۔

اس کے باوجود محصور کھوٹیوں اور نجی جزیروں کے پیچھے، مغرب کے سب سے طاقتور مردوں نے "صنعتی پیمانے پر جنسی استحصال" کا نظام بنایا؛ ایسا نظام جو غربت کی بنا پر نہیں؛ سائے میں چھپا کر نہیں، بلکہ عیش و آرام اور دولت و طاقت کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔

ایپسٹین کے انکشافات مایوسی سے چلنے والے جرم کو بے نقاب نہیں کر رہے، بلکہ عیاشی میں وہ عیش و آرام سے چلنے والی  بدچلنی، بدکاری اور فسق و فجو کو بے نقاب کرتے ہیں۔

وہ ایک ایسی ثقافت دکھاتے ہیں جہاں ہر چیز - جسموں، خاموشیوں اور انصاف ـ کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور خریدار وہی مرد تھے جنہوں نے عالمی پالیسیاں بنائیں، ابلاغی بیانیے بنانے کے عمل پر مسلط رہے اور دنیا کو اخلاقیات کی نصیحت کی۔

جو کام اوریئنٹلزم نے کسی وقت ازروئے فکر دانِش انجام دیا تھا وہ غیر مغربی قوموں کو مسخ کر کے مغرب کا مرتبہ بڑھانے اور بالادست دکھانے سے عبارت تھا اور اب وہ کام ایپسٹین فائلز نے اخلاقی طور پر ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ تہذیبی برتری کا وہم ختم ہو گیا ہے۔ نقاب گر چکا ہے۔ جو "بربریت" طویل عرصے سے مسلمانوں اور غیر مغربی معاشروں پر تھوپی جاتی رہی، وہ پینٹ ہاؤسز اور محلات میں فروغ پاتی اور پھلتی پھولتی پائی گئی ہے۔ [ایپسٹین کی رسوائی صرف ایک نمونہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے اور اب ـ شاید اس سے کہیں بڑی ـ مزید رسوائیوں کی توقع کی جا رہی ہے]۔

مغرب نے دنیا کو عشروں تک دوسروں کی "بداخلاقی" کی کہانیوں میں الجھائے رکھا، جبکہ اس کا اپنا حکمران طبقہ بند دروازوں کے پیچھے استحصال کو عروج پر پہنچا رہا تھا اور اب کہانی اندر کی طرف مڑ چکی ہے؛ اور ثابت ہوچکا ہے کہ وہ مغربی تہذیب اخلاقی قیادت نہیں بلکہ درحقیقت اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: جاوید اکبر

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ اوریئنٹلزم یا استشراق کے اصطلاحی معنی مشرق کی زبان و ادب اور ثقافت و سماج سے آگاہی ہے اور ان مغربی افراد کو مستشرقین، محققین کا نام دیا جاتا تھا، یعنی وہ لوگ جو مشرق کے مسائل سے واقف ہوں۔ بہت سے معاصر محققین کا اتفاق ہے کہ مستشرقین در حقیقت مغربی استعمار کے جاسوس تھے۔

[2]۔ فلسطینی-امریکی پروفیسر ایڈورڈ سعید کے بارے میں: سنہ 1935ع‍ میں، قدس شریف میں پیدا ہوئے، سنہ 1963ع‍ سے 2003 تک کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر رہے۔ بیسویں صدی کے سب سے بااثر امریکی عوامی دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کا انتقال نیویارک میں ہؤا اور انہیں لبنان کے پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ایڈورڈ سعید کی کتاب "اوریئنٹلزم" کو پہلی بار 1978 میں پینتھین بکس نے شائع کیا۔ کئی بار اس کی اشاعت کی تجدید ہوئی۔ آخری بار ان کے انتقال کے 11 سال بعد 2014 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب بیسویں صدی کی 100 بہترین کتابوں میں شامل تھی۔ یہ کتاب ثقافتی تنقید اور مشرق وسطیٰ کے مطالعے میں ایک بنیادی متن سمجھی جاتی ہے۔

[3]۔ "Flight log " ہوائی جہاز کی پرواز کے دوران ہونے والے واقعات کا ایک سرکاری ریکارڈ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha